7 اشعار

یہاں دماغ کہاں میں چلانے آتا ہوں

yahan dimagh kahan main chalane aata hun

یہاں دماغ کہاں میں چلانے آتا ہوںیہاں تو بس تری باتوں میں آنے آتا ہوں

مرا مذاق اڑا کر تجھے جو ملتی ہےاسی خوشی پہ یہاں مسکرانے آتا ہوں

زمانہ پہلے جسے ڈوبنا تھا ڈوب گیانہ جانے اب یہاں کس کو بچانے آتا ہوں

اب اس کا گھر تو زیارت کدہ ہے میرے لئےسلامؔ کر کے کہیں اور جانے آتا ہوں

یہ ڈوبتا ہوا سورجؔ تو اک بہانہ ہےمیں اک ندی کو سمندر دکھانے آتا ہوں

ہدف تو اور کوئی ہے مگر تمہارے پاسذرا نشانے کو بہتر بنانے آتا ہوں

حقیقتوں پہ جھگڑنے کے دن گئے شارقؔاب اس کے جھوٹ پہ تالی بجانے آتا ہوں

— شارق کیفی