6 اشعار

جانے سولی پہ ہم چڑھائے گئے

jaane suli pe hum chaDhae gae

جانے سولی پہ ہم چڑھائے گئےیا تماشائی آزمائے گئے

یہ بھی توہین رنگ و بو ہی تو ہےپھول بازار لے کے آئے گئے

بے سبب زور ڈالا آنکھوں پربے ضرورت گلے بٹھائے گئے

تب جو داخل ہوا وہ ہم تو نہ تھےگھر میں دوبارہ جب بلائے گئے

میں بتاتا ہوں اپنے سارے گناہتم سے کب سب کے سب گنائے گئے

بھر گئی رہ گزار پھولوں سےپیڑ جب زور سے ہلائے گئے

— شارق کیفی