5 اشعار

مدتوں بعد کہیں ایسی گھٹا چھائی تھی

muddaton baad kahin aisi ghaTa chhai thi

مدتوں بعد کہیں ایسی گھٹا چھائی تھیپیاس کی دھندھ پھر آنکھوں پہ اتر آئی تھی

فیصلے اپنے زمانے پہ کبھی مت چھوڑومیں نے یہ بات اسے پہلے ہی سمجھائی تھی

حیرتی ہوں کہ وہ اتنا بھی نبھا پایا مجھےاس کی جس طرح کے لوگوں سے شناسائی تھی

عشق اس درجہ کتابی بھی نہیں ہو سکتاوہ دکھاوے وہ اداکاری ہی سچائی تھی

کوئی معمول میں تبدیلی نہیں تھی لیکنگھر میں کچھ آج عجب طرح کی تنہائی تھی

— شارق کیفی