6 اشعار

ناجائز ہے جو بھی شکایت ہے میری

na-jaez hai jo bhi shikayat hai meri

ناجائز ہے جو بھی شکایت ہے میریہونا ہی گر اصل مصیبت ہے میری

تجھ سے ہی ہر زخم مرا منسوب نہیںدنیا بھی ناکام محبت ہے میری

میں بھی اوب چکا ہوں شور شرابے سےصحرا کو بھی جان غنیمت ہے میری

ایسے مرتا دیکھ رہے ہیں لوگ مجھےجیسے یہ بھی کوئی شرارت ہے میری

آخر مجھ سے خطرہ کیا ہے دنیا کوکیوں اتنی ہر وقت حفاظت ہے میری

یہ جو میری چپ ہے یہ با معنی چپیہی شکایت یہی بغاوت ہے میری

— شارق کیفی