9 اشعار

وہ بھی ماہر تھا بہت بات کو الجھانے میں

jab kabhi zaKHm shanasai ke bhar jate hain

وہ بھی ماہر تھا بہت بات کو الجھانے میںہم بھی ڈرتے تھے کسی ایک طرف جانے میں

تیز رفتاری میں رکھا نہیں سانسوں کا حسابعمر کو بھول گئے وقت کو چمکانے میں

اک سفر اور طرح کا ابھی کرنا ہے ہمیںآپ سے آپ کی تصویر تلک جانے میں

خوب ترکیب نکالی تھی نہ پینے کی مگرجام ٹوٹا ہی نہیں جام سے ٹکرانے میں

شکر یہ ہے کہ ملاقات زیادہ نہ چلیوقت کٹتا ہی نہ تھا وقت کو دہرانے میں

بھولنے میں تو اسے دیر زیادہ نہ لگیغم گساروں نے بہت وقت لیا جانے میں

ہیں تو نادان مگر اتنے بھی نادان نہیںبات بنتی ہو تو آ جاتے ہیں بہکانے میں

کیا غم دہر کوئی یاد اگر زندہ ہوکیا شب ہجر اگر دھوپ ہو پیمانے میں

کیا کریں کیفیتٔ بے خبری کا شارقؔیار انجان ہوئے جاتے ہیں انجانے میں

— شارق کیفی