6 اشعار

جب ساحل کا دھوکا ساحل ہو جاتا ہے

jab sahil ka dhoka sahil ho jata hai

جب ساحل کا دھوکا ساحل ہو جاتا ہےپار اترنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے

اک دن اتنی بھیڑ جٹا لیتی ہے شہرتاپنا قاتل اس میں شامل ہو جاتا ہے

موت کے دن سے کیوں ڈرتا تھا یوں ڈرتا تھاجس کو دیکھو گھر میں داخل ہو جاتا ہے

کوئی بھی اچھی بات یہاں بس کان میں کہنابیماروں کو مرنا مشکل ہو جاتا ہے

یہ محرومی اور طرح کی محرومی ہےسب کچھ وقت سے پہلے حاصل ہو جاتا ہے

ساری حقیقت کھل جاتی ہے دانائی کیجس دن اک گمراہ مقابل ہو جاتا ہے

— شارق کیفی