25 اشعار

جنازے میں تو آؤ گے نہ میرے

janaze mein to aaoge na mere

کبھی میں زندگی کی ناز برداری نہ کر پایاہمیشہ بیچ میں حائل رہا اک خواب

پاگل خوابسوتے جاگتے جو دیکھتا ہوں میں

کہ سر ہی سر جنازے میں ہیں میرےاور میں بانوں کی نئی اک چارپائی پر سکوں کے ساتھ لیٹا ہنس رہا ہوں

اک ایسی بھیڑ پرجو مجھ کو کاندھا دینے کے لیے آپس میں جھگڑا کر رہی ہے

مجھے یہ زندگی پیروں تلے جتنا کچلتی ہےمری اس خواب سے وابستگی بڑھتی ہی جاتی ہے

مرے جیسے کسی گمنام سے اک شخص کی آنکھوں نےایسا خواب کیوں دیکھا

کہاں دیکھایہ خود میرے لیے بھی اک پہیلی ہے

مگر ہنسئے نہیں اس خواب پر میرےمرا یہ خواب ہی تو وہ کڑی ہے

جو مجھ کو زندگی سے جوڑتی ہےنہ جانے کب سے وہ فہرست میں تیار کرنے لگا ہوں

لکھے ہیں نام جس میں ایسے لوگوں کےجنازے میں جنہیں ہونا ہی ہونا چاہیئے میرے

سو ان لوگوں سے رشتے بھیبہت ہموار ہونا چاہیئے میرے

میں یہ بھی جانتا ہوںمجھے جس شان سے مرنے کی خواہش ہے

وہ محنت مانگتی ہےکسی حد تک بھی جھک کر دشمنوں سے

صلح کر لینے کی ہمت مانگتی ہےمحبت مانگتی ہے

دعائیں مانگتا ہوں زندگی کی اس لیے میںکہ مجھ کو وہ تھوڑا وقت مل جائے

نئے رشتے بنانے کاتعلق گہرے کرنے کا

وگرنہ کیوں بھلا آئے گا کوئیموت کے دن گھر پہ میرے

سنک کہہ لو کہ پاگل پنادھر آ کر مری یہ دھن یہاں تک بڑھ گئی ہے

کہ اب میں دوستوں سےخوشی کی محفلوں میں بھی یہ اکثر پوچھ لیتا ہوں

جنازے میں تو آؤ گے نہ میرے؟یہاں چاہو تو ہنس سکتے ہو مجھ پر

مگر لاشے پہ تو آنسو بہاؤ گے نہ میرے؟وہ ہنس دیتے ہیں میری بات پر

اور میں کہیں اندر سے جیسے ٹوٹ جاتا ہوںمگر جب بھی کبھی ایسا ہوا ہے

جنازے نے مجھے کاندھا دیا ہےمجھے جب بھی لگا ایسا کہ میں اب تھک رہا ہوں

گر رہا ہوںمرے اس خواب نے

مرے اپنے جنازے نے مجھے کاندھا دیا ہے

— شارق کیفی