7 اشعار

جسم بچہ ہے جانے بھر کا

jism bacha hai jaane bhar ka

جسم بچہ ہے جانے بھر کاصرف کفن پہنانے بھر کا

کیسا لا محدود جہاں تھارقبہ تھا میخانے بھر کا

اک ایسی تصویر ہوں جس میںرنگ نہیں دھندلانے بھر کا

کچھ بھی نہیں کہہ پائے اس سےوقت تھا ہاتھ ہلانے بھر کا

اس الزام میں سچ تو چھوڑوجھوٹ نہیں جھٹلانے بھر کا

ہم اک گھر کے آدھے وارثدیوانہ ویرانے بھر کا

ان سونی راہوں میں شارقؔکام نہیں بھٹکانے بھر کا

— شارق کیفی