6 اشعار

پڑتا رہتا ہے اکثر یہ دورہ مجھ پر

paDta rahta hai aksar ye daura mujh par

پڑتا رہتا ہے اکثر یہ دورہ مجھ پرمیں دنیا پر تھوک رہا ہوں دنیا مجھ پر

دو پل بیٹھ نہ پایا اپنوں کی محفل میںہر رشتے نے اتنا قرض نکالا مجھ پر

تھوڑی دیر کو میں بھی اچھا لگ سکتا تھاپہنا لیکن نہیں جچا یہ چہرہ مجھ پر

کھیل ہے سارا پیار بھری نظروں کا تیریکوئی بھی کرتا لگ سکتا ہے اچھا مجھ پر

میں نے اس سے کہیں زیادہ لوٹایا ہےاس دنیا نے جتنا خرچ کیا تھا مجھ پر

اس کے تو کھڑکی دروازے بند تھے سارےتیز ہوا نے سارا زور نکالا مجھ پر

— شارق کیفی