9 اشعار

جسم کے ساتھ آخری لمحہ

jism ke sath aaKHiri lamhe

چلو چھٹی ملی آخرسبک دوش ہو گئی میں پہرے داری سے

اک ایسے جسم کیجو اتنا نازک تھا

کہ اس کی انگلیاں پھل کاٹنے والاکوئی چاقو بھی گھایل کرتا رہتا تھا

ہوا کم ہو تو جس کی ناک سے خوں بہنے لگتا تھاوہ جس کے پیر تھوڑی سی تھکن سے سوج جاتے تھے

یہ میرے آخری لمحے ہیں اپنے جسم کے ساتھبس اک تختہ

اور اس کے بعد میں آزاد ہوں سیر فلک کوسکوں دل میں لئے اس بات کا

کہ میرے جسم کو اپنی ہی موت آئیوہ ہارا بھی تو صرف اور صرف اپنی عمر سے

اور روح یوں بھیعمر کو گنتی نہیں ہے

دشمنوں میں جسم کے

— شارق کیفی