9 اشعار

جیت گیا جیت گیا

jit gaya jit gaya

آؤاب ڈھونڈو مجھے

پھسڈی کہہ کے مجھ کو چھیڑنے والوہراؤ اب مجھے

ہاں مجھے بھی کھیل لگتا تھا یہ سب کچھ ابتدا میںمگر یہ بھی تو سوچو

مسلسل ہار کوئی کھیل ہے جو کھیل اس کو مان لیتا میںکہاں تک ہارتا میں؟

مرے چھپنے کے سب کونے اجاگر ہو گئے تھےبہت آسان ہوتا جا رہا تھا ڈھونڈنا مجھ کو

مجھے اب جیتنا تھاکسی قیمت پہ مجھ کو جیتنا تھا

سو میں نے یہ کیاوہ آہٹ جو مری دشمن رہی تھی آج تک

میں نے اسی کو مار ڈالااور جا کر چھپ گیا خود قبر کے تختوں کے پیچھے

منوں مٹی کے نیچے

— شارق کیفی