10 اشعار

روتا ہوا بکرا

rota hua bakra

وہی بکرامرا مریل سا بکرا

جسے ببلو کے بکرے نے بہت مارا تھا وہ بکراوہ کل پھر خواب میں آیا تھا میرے

دہاڑیں مار کر روتا ہوااور نیند سے اٹھ کر ہمیشہ کی طرح رونے لگا میں

خطا میری تھیمیں نے ہی لڑایا تھا اسے ببلو کے بکرے سے

اسے معلوم تھا پٹنا ہے اس کومگر پھر بھی وہ اس موٹے سے جا کر بھڑ گیا تھا

مری عزت کی خاطروہ بھی قربانی سے بس کچھ دیر پہلے

مگر پاپا تو کہتے ہیں وہ جنت میں بہت آرام سے ہوگاوہاں انگور کھا کر خوب موٹا ہو گیا ہوگا

تو کیوں روتا ہے وہ خوابوں میں آ کروہ کیوں روتا ہے آ کر خواب میں یہ تو نہیں معلوم مجھ کو

مجھے تو یہ پتا ہےوہ جب جب خواب میں روتا ہوا آیا ہے میرے

تو اگلے روز ببلو کو بہت مارا ہے میں نے

— شارق کیفی