6 اشعار

جو اگلا پاؤں دھرنے کے لیے تھی

jo agla panw dharne ke liye thi

جو اگلا پاؤں دھرنے کے لیے تھیوہی سیڑھی اترنے کے لیے تھی

اگر اتنی ہی گہری تھی اداسیتو پھر وہ رات مرنے کے لیے تھی

اگر وہ آنسوؤں سے نم نہ کرتایہ مٹی تو بکھرنے کے لیے تھی

جو پیچھے پیچھے آئی تھی وہ بارشہوا کے پر کترنے کے لیے تھی

اکیلے تھے ہم اس انجان گھر میںبس اک پرچھائیں ڈرنے کے لیے تھی

خدا کو در بہ در کرنے کی کوششتجھے آباد کرنے کے لیے تھی

— شارق کیفی