5 اشعار

کچھ بھی منزل سے نہیں لائے ہم

kuchh bhi manzil se nahin lae hum

کچھ بھی منزل سے نہیں لائے ہماپنے حصے کا بھٹک آئے ہم

جب تعلق پہ چلی بات کبھیبے تعلق سے نظر آئے ہم

خوشنما یادیں ہی کتنی سی تھیںان کو بھی یاد نہ رکھ پائے ہم

یہی ہونا تھا ہمارا انجاماپنے ہی پاؤں تلے آئے ہم

وہی تو ہو گئے دشمن اک دنجن کی باتوں میں نہیں آئے ہم

— شارق کیفی