5 اشعار

کوئی خوش تھا تو کوئی رو رہا تھا

koi KHush tha to koi ro raha tha

کوئی خوش تھا تو کوئی رو رہا تھاجدا ہونے کا اپنا ہی مزہ تھا

نظر کی احتیاطیں کام آئیںوہ میرا دیکھنا تک دیکھتا تھا

ستم یہ تھا کہ میں اس کا بدل بھیاسی سے ملتا جلتا ڈھونڈھتا تھا

وہی رفتار تھی قدموں کی لیکنوہ اب میرے مخالف چل رہا تھا

لبوں تک حال دل وہ بھی نہ لایامری قدروں کو وہ پہچانتا تھا

— شارق کیفی