9 اشعار

سیانے تھے مگر اتنے نہیں ہم

siyane the magar itne nahin hum

سیانے تھے مگر اتنے نہیں ہمخموشی کی زباں سمجھے نہیں ہم

انا کی بات اب سننا پڑے گیوہ کیا سوچے گا جو روٹھے نہیں ہم

ادھوری لگ رہی ہے جیت اس کواسے ہارے ہوئے لگتے نہیں ہم

ہمیں تو روک لو اٹھنے سے پہلےپلٹ کر دیکھنے والے نہیں ہم

بچھڑنے کا ترے صدمہ تو ہوگامگر اس خوف کو جیتے نہیں ہم

ترے رہتے تو کیا ہوتے کسی کےتجھے کھو کر بھی دنیا کے نہیں ہم

یہ منزل خواب ہی رہتی ہمیشہاگر گھر لوٹ کر آتے نہیں ہم

کبھی سوچے تو اس پہلو سے کوئیکسی کی بات کیوں سنتے نہیں ہم

ابھی تک مشوروں پر جی رہے ہیںکسی صورت بڑے ہوتے نہیں ہم

— شارق کیفی