6 اشعار

کام نمٹا کے ہم تو سو گئے ہیں

kaam nimTa ke hum to so gae hain

کام نمٹا کے ہم تو سو گئے ہیںدیکھنے بھر کو خواب ہو گئے ہیں

جن کو منزل سے کوئی شغل نہیںایسے کچھ لوگ ساتھ ہو گئے ہیں

پہلے وہ کھوے جو تھے مرکز دیداور اب ساتھ والے کھو گئے ہیں

عشق میں ایسے کچھ سبق بھی ملےجو ہمیشہ کو یاد ہو گئے ہیں

لہلہائے گا پھر ہمارا وجودتیری مٹی میں خود کو بو گئے ہیں

یوں کہ بس تیرے آس پاس تھا میںلوگ میرے بھی پاؤں دھو گئے ہیں

— شارق کیفی