5 اشعار

کہاں ہم میں جھگڑا ہوا تھا کوئی

kahan hum mein jhagDa hua tha koi

کہاں ہم میں جھگڑا ہوا تھا کوئیندامت میں روٹھا ہوا تھا کوئی

تماشہ یہاں آج ہونا ہی تھاتوجہ کو ترسا ہوا تھا کوئی

اسی جان لیوا بھنور میں کہیںکنارہ بھی ڈوبا ہوا تھا کوئی

ابھی تک ہیں سیلاب کی زد میں ہمبس اک پل کو دریا ہوا تھا کوئی

بکھر ہی گیا وہ بھی سامان میںقرینے سے رکھا ہوا تھا کوئی

— شارق کیفی