6 اشعار

موت کی روشنی میں سنوارا اسے

maut ki raushni mein sanwara use

موت کی روشنی میں سنوارا اسےہم نے دلہن بنایا دوبارہ اسے

جانے کن پانیوں پر رہا اس کا ساتھجانے کن ساحلوں پر اتارا اسے

اس سے بچھڑا تو بچھڑا ہوں پوری طرحچھوڑ آیا ہوں سارے کا سارا اسے

تب سے امید باندھے ہوئے ہے یہ دلجب کیا بھی نہیں تھا اشارہ اسے

کوئی کہتا تھا ساحل تو کوئی بھنورسب نے اپنی طرح سے پکارا اسے

جتنا ہم رو رہے تھے بچھڑتے ہوئےرنج اتنا نہیں تھا ہمارا اسے

— شارق کیفی