7 اشعار

کبھی جو ہم ذرا بہت سنبھل گئے

kabhi jo hum zara bahut sanbhal gae

کبھی جو ہم ذرا بہت سنبھل گئےتو چھانو چھانو دھوپ میں نکل گئے

مرے لیے بھی تو خدا نہیں رہاترے گناہ گار بھی بدل گئے

نہ جانے کیسی شکل دیتے آج کووہ فیصلے جو ہوتے ہوتے ٹل گئے

ملے ہیں جو ہمیں یہ کانچ کے بدنکمال ہے کہ اتنے روز چل گئے

یہ خوف کھائے جا رہا ہے اب مجھےاگر کبھی تماشبیں بدل گئے

جدائی کہہ لیے اسے کہ اور کچھہم ایک دوسرے کے سر سے ٹل گئے

سوال ہی کو اوڑھیے بچھائیےجواب مانگنے کے دن نکل گئے

— شارق کیفی