6 اشعار

کبھی خود کو چھوکر نہیں دیکھتا ہوں

kabhi KHud ko chhukar nahin dekhta hun

کبھی خود کو چھوکر نہیں دیکھتا ہوںخدا جانے بس وہم میں مبتلا ہوں

کہاں تک یہ رفتار قائم رہے گیکہیں اب اسے روکنا چاہتا ہوں

وہ آ کر منا لے تو کیا حال ہوگاخفا ہو کے جب اتنا خوش ہو رہا ہوں

فقط یہ جتاتا ہوں آواز دے کرکہ میں بھی اسے نام سے جانتا ہوں

گلی میں سب اچھا ہی کہتے تھے مجھ کومجھے کیا پتا تھا میں اتنا برا ہوں

نہیں یہ سفر واپسی کا نہیں ہےاسے ڈھونڈنے اپنے گھر جا رہا ہوں

— شارق کیفی