7 اشعار

ممکن ہی نہ تھی خود سے شناسائی یہاں تک

mumkin hi na thi KHud se shanasai yahan tak

ممکن ہی نہ تھی خود سے شناسائی یہاں تکلے آیا مجھے میرا تماشائی یہاں تک

رستہ ہو اگر یاد تو گھر لوٹ بھی جاؤںلائی تھی کسی اور کی بینائی یہاں تک

شاید تہہ دریا میں چھپا تھا کہیں صحرامیری ہی نظر دیکھ نہیں پائی یہاں تک

محفل میں بھی تنہائی نے پیچھا نہیں چھوڑاگھر میں نہ ملا میں تو چلی آئی یہاں تک

صحرا ہے تو صحرا کی طرح پیش بھی آئےآیا ہے اسی شوق میں سودائی یہاں تک

اک کھیل تھا اور کھیل میں سوچا بھی نہیں تھاجڑ جائے گا مجھ سے وہ تماشائی یہاں تک

یہ عمر ہے جو اس کی خطاوار ہے شارقؔرہتی ہی نہیں باتوں میں سچائی یہاں تک

— شارق کیفی