6 اشعار

کس نے سوچا تھا کہ اس حد تک بھی جا سکتا ہوں میں

kis ne socha tha ki is had tak bhi ja sakta hun main

کس نے سوچا تھا کہ اس حد تک بھی جا سکتا ہوں میںموت سے بھی عشق کا چکر چلا سکتا ہوں میں

مجھ سے اچھا کوئی آنسو پونچھنے والا نہیںساتھ رکھ لے واپسی میں کام آ سکتا ہوں میں

وقت نے گونگا کیا تو ہے مگر اتنا نہیںگھر اکیلا ہو تو اب بھی گنگنا سکتا ہوں میں

عشق میں تو جان دینے کی اگر ضد چھوڑ دےروز تجھ کو خود کشی کرنا سکھا سکتا ہوں میں

تم سے بڑھ کر کون دنیا میں مرے نزدیک ہےاک تمہیں تو ہو کہ جس کا دل دکھا سکتا ہوں میں

بھیڑ کا شکوہ ہمیشہ دوسروں سے کس لئےیار خود کو بھی تو رستہ سے ہٹا سکتا ہوں میں

— شارق کیفی