5 اشعار

وہ نگاہیں جو ہزاروں کی سنا کرتی تھیں

wo nigahen jo hazaron ki suna karti thin

وہ نگاہیں جو ہزاروں کی سنا کرتی تھیںفیصلے میرے اشاروں پہ لیا کرتی تھیں

اس برس اس سے بچھڑنا تھا تو کیا کیا نہ ہواورنہ کب اتنی ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں

مجھ کو دیکھے بنا جی پاؤ تو اب مت آنایہی باتیں تو پھر آنے کو کہا کرتی تھیں

اب یقیں کر کہ مرے دل میں کوئی بات نہیںرنجشیں تھیں تو ابھرتی بھی رہا کرتی تھیں

اب جن آنکھوں کی اداسی کے بہت چرچے ہیںکل تلک کتنے حسیں خواب بنا کرتی تھیں

— شارق کیفی