5 اشعار

کٹے گی کیسے ہماری وہاں پہ جائے بغیر

kaTegi kaise hamari wahan pe jae baghair

کٹے گی کیسے ہماری وہاں پہ جائے بغیرچلے تو آئے ہیں شارقؔ اسے منائے بغیر

عجب طرح کے ملے رہ گذار عشق میں لوگکوئی گیا ہی نہیں راستہ بتائے بغیر

اداس ہوں کہ مرا کھیل ختم ہو ہی گیاتماشبین کی کچھ بھی سمجھ میں آئے بغیر

اب ایک جسم ہے اور بین کرتے کچھ احبابچلے گئے ہیں کہاں خود کو ہم بتائے بغیر

تمہارے ہجر کا احسان ہم پہ صد احسانیہ تجربہ کسے ہوتا ہے موت آئے بغیر

— شارق کیفی