7 اشعار

نہ کہو علاج کیا نہیں

na kaho ilaj kiya nahin

نہ کہو علاج کیا نہیںرہا فائدہ سو ہوا نہیں

مجھے صرف اس کی سزا ملیکہ میں بے گناہ لگا نہیں

یہی شکر ہے مرا فیصلہکسی اور دن پہ ٹلا نہیں

اسے یار کہیے تو کس طرحجو تھا گھر میں اور ملا نہیں

جو سنا وہ سننے کا ڈھونگ تھاجو کہا وہ یاد رہا نہیں

مرے نام لاکھ شکار ہوںپہ یہ جال میں نے بنا نہیں

بلا وجہ آفتیں مول لیںکہیں دور جانے کا تھا نہیں

— شارق کیفی