12 اشعار

خاک کو میں خوار کیوں کرتا

KHak ko main KHwar kyun karta

دعائے خیر سےدعائے مغفرت تک کا سفر پورا ہوا

اور اب میں اپنی قبر میں ہوںذرا حیرت زدہ ہوں

مگر یہ قبر اتنی تنگ بالکل بھی نہیں ہےمیں جیسی سوچتا تھا

مجھے بس عطر اور کافور کی خوشبو پریشاں کر رہی ہےاور کچھ حد تک یہ ڈورے آنکھ کے

اندھیرا ہے مگر وہ بھی نہایت مہرباںدل رکھنے والا

بہت مانوس سا لگتا ہے سب کچھکچھ ایسا

جیسے کوئی اپنی ماں کی کوکھ میں پھر لوٹ آیا ہووہاں اوپر بھی کچھ ہلچل ہے اب تک

ابھی تک لوگ مٹی دے رہے ہیں جسم کو میرےیہ آوازیں بھی آئی ہیں

برائے مہربانی اپنے جوتے کھول لیجےیہ مٹی قبر کی ہے اس کی حرمت کو سمجھئے

افسردہ ہو گیا ہوں میں یہ سن کراگر یہ بات میں نے زندگی میں جان لی ہوتی

کہ بس صورت بدل لینے سے مٹی پاک ہو سکتی ہے میریتو اپنی خاک کو میں خوار کیوں کرتا

میں اتنا زندگی سے پیار کیوں کرتا

— شارق کیفی