7 اشعار

مشق

mashq

تو وہ سب مشق تھیبے پردگی کی

جو مجھے پچھلے کئی ایک سال سے ان اسپتالوں میں کرائی جا رہی تھیجہاں پر قید تھا میں

کبھی مجھ کو مرے ہی پھیپھڑوں کی ایکس رے میں قید تصویریں دکھا کرکبھی پیشاب کی تھیلی لگا کر

کہ میں پوری طرح بے شرم ہو جاؤںاس اک لمحے کے آنے تک

جب اک انجان ہاتھغسل کے تختے پہ بالکل بے جھجک

عضو تناسل میں مرےپیشاب کی بوندیں ٹٹولے

اور مجھے جیسے جہاں جی چاہے چھو لے

— شارق کیفی