6 اشعار

کوئی کچھ بھی کہتا رہے سب خاموشی سے سن لیتا ہے

koi kuchh bhi kahta rahe sab KHamoshi se sun leta hai

کوئی کچھ بھی کہتا رہے سب خاموشی سے سن لیتا ہےاس نے بھی اب گہری گہری سانسیں لینا سیکھ لیا ہے

پیچھے ہٹنا تو چاہا تھا پر ایسے بھی نہیں چاہا تھااپنی طرف بڑھنے کے لیے بھی اس کی طرف چلنا پڑتا ہے

جب تک ہو اور جیسے بھی ہو دور رہو اس کی نظروں سےاتنا پرانا ہے کہ یہ رشتہ پھر سے نیا بھی ہو سکتا ہے

جیسے سب طوفان مری سانسوں سے بندھے ہوں مجھ میں چھپے ہوںدل میں کسی ڈر کے آتے ہی زور ہوا کا بڑھ جاتا ہے

میں تو فسردہ ہوں ہی لیکن اشک رقیب کی آنکھ میں بھی ہیںایک محاذ پہ ہارے ہیں ہم یہ رشتہ کیا کم رشتہ ہے

رنگ میں ہیں سارے گھر والے کھنک رہے ہیں چائے کے پیالےدنیا جاگ چکی ہے لیکن اپنا سویرا نہیں ہوا ہے

— شارق کیفی