6 اشعار

خود کو اتنا دنیا دار نہیں کر سکتے

KHud ko itna duniya-dar nahin kar sakte

خود کو اتنا دنیا دار نہیں کر سکتےآدھے دل سے پورا پیار نہیں کر سکتے

رشتے توڑے ملاحوں سے ناؤ جلا دیاب ہم دونوں دریا پار نہیں کر سکتے

جتنا شور مچاتے ہیں یہ جھوٹھے عاشقاتنا تو سچے بیمار نہیں کر سکتے

ویسے تو مشہور ہے اپنی ہمت لیکنآئینے سے آنکھیں چار نہیں کر سکتے

یہ بھی اک ترکیب ہے دشمن سے لڑنے کیگلے لگا لو جس پر وار نہیں کر سکتے

تیری گلی میں کب آئے تھے یاد نہیں ہےویسے ہم اک دن بے کار نہیں کر سکتے

— شارق کیفی