6 اشعار

مجھ میں ہے جو درویش وہ مر جائے تو اچھا

mujh mein hai jo darwesh wo mar jae to achchha

مجھ میں ہے جو درویش وہ مر جائے تو اچھادنیا مجھے دنیا ہی نظر آئے تو اچھا

دوبارہ کہیں تازہ نہ ہو جائیں مرے زخمسوتے میں ترا شہر گزر جائے تو اچھا

بہلاؤں گا کب تک میں اسے جھوٹی چمک سےسونے کا یہ پانی بھی اتر جائے تو اچھا

ہوتے ہیں بڑی عمر کے اپنے بہت آزاریہ زخم جوانی میں ہی بھر جائے تو اچھا

دنیا کے سوالات پہ خاموش رہیں ہمدونوں ہی کے گھر ایک خبر جائے تو اچھا

وحشی کو وہاں لا کے جنوں چھوڑ گیا ہےگھر جائے تو اچھا نہیں گھر جائے تو اچھا

— شارق کیفی