7 اشعار

لوگ سہہ لیتے تھے ہنس کر کبھی بے زاری بھی

log sah lete the hans kar kabhi be-zari bhi

لوگ سہہ لیتے تھے ہنس کر کبھی بے زاری بھیاب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی

وار کچھ خالی گئے میرے تو پھر آ ہی گئیاپنے دشمن کو دعا دینے کی ہشیاری بھی

عمر بھر کس نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھےوقت کم ہو تو سجا دیتی ہے بیماری بھی

کس طرح آئے ہیں اس پہلی ملاقات تلکاور مکمل ہے جدا ہونے کی تیاری بھی

اوب جاتا ہوں ذہانت کی نمائش سے تو پھرلطف دیتا ہے یہ لہجہ مجھے بازاری بھی

عمر بڑھتی ہے مگر ہم وہیں ٹھہرے ہوئے ہیںٹھوکریں کھائیں تو کچھ آئے سمجھ داری بھی

اب جو کردار مجھے کرنا ہے مشکل ہے بہتمست ہونے کا دکھاوا بھی ہے سر بھاری بھی

— شارق کیفی