7 اشعار

کچھ قدم اور مجھے جسم کو ڈھونا ہے یہاں

kuchh qadam aur mujhe jism ko Dhona hai yahan

کچھ قدم اور مجھے جسم کو ڈھونا ہے یہاںساتھ لایا ہوں اسی کو جسے کھونا ہے یہاں

بھیڑ چھٹ جائے گی پل میں یہ خبر اڑتے ہیاب کوئی اور تماشا نہیں ہونا ہے یہاں

یہ بھنور کون سا موتی مجھے دے سکتا ہےبات یہ ہے کہ مجھے خود کو ڈبونا ہے یہاں

کیا ملا دشت میں آ کر ترے دیوانے کوگھر کے جیسا ہی اگر جاگنا سونا ہے یہاں

کچھ بھی ہو جائے نہ مانوں گا مگر جسم کی باتآج مجرم تو کسی اور کو ہونا ہے یہاں

یوں بھی درکار ہے مجھ کو کسی بینائی کا لمساب کسی اور کا ہونا مرا ہونا ہے یہاں

اشک پلکوں پہ سجا لوں میں ابھی سے شارقؔشب ہے باقی تو ترا ذکر بھی ہونا ہے یہاں

— شارق کیفی