7 اشعار

کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے

kisi tange mein phir saman rakkha ja raha hai

کسی کی آنسوؤں سے تر بتر داڑھی کےکچھ ٹوٹے ہوئے بال

آج بھی ممکن ہے مل جائیںبڑے صندوق میں رکھے

مرے بد رنگ سے اک سویٹر پراسی دن کا کوئی ہم شکل دن ہے

کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہےوہی دہلیز ہے

لیکن مرے داڑھی نہیں ہےمرا لڑکا گلے سے لگ کے میرے

تھپک کر پیٹھ میریبزرگوں کی طرح مجھ کو تسلی دے رہا ہے

اور میں اک بچے کی صورت رو رہا ہوںہچکیوں سے

— شارق کیفی