8 اشعار

کسی طور دنیا ٹھکانے لگی

kisi taur duniya Thikane lagi

کسی طور دنیا ٹھکانے لگیتو اندر کی دنیا نچانے لگی

گئے تھے کہ اظہار کر دیں گے آجوہ شادی کا جوڑا دکھانے لگی

بہت دور ڈوبا ہے کوئی جہازمیری ناؤ کیوں ڈگمگانے لگی

کہا موت سے میں نے کب آئے گیوہ اپنی ہتھیلی دکھانے لگی

ہوا نے چراغوں سے کی معذرتمگر جب عدالت سے جانے لگی

خزاں پیڑ سے کھیل کر تھک گئیتو پتے ہوا میں اڑانے لگی

بہ مشکل کھلا تھا ذرا آسماںتو اندر سے بوچھار آنے لگی

یہ لڑکی تو دل جیت لے گی میراتمہاری طرح مسکرانے لگی

— شارق کیفی