6 اشعار

شاید مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھا

shayad mujhse jaan chhuDaya karta tha

شاید مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھاگھر خود کو ویران بتایا کرتا تھا

رشتے میں اک موڑ نہیں ہے دور تلکپہلے اک دوراہا آیا کرتا تھا

آسانی سے ہم بھی سبز نہ ہوتے تھےوہ بھی اپنی دھوپ بچایا کرتا تھا

چاند ہمیں لے جاتا تھا مدہوشی تکصبح کا تارہ ہوش میں لایا کرتا تھا

خالی ہاتھ اترتا تھا دوکانوں سےآدھے پونے دام لگایا کرتا تھا

منہ پر اس سے کرتا تھا اقرار کی ضدواپس آ کر شکر منایا کرتا تھا

— شارق کیفی