5 اشعار

موت ادھر جب بھی آتی ہے

maut idhar jab bhi aati hai

موت ادھر جب بھی آتی ہےاپنا رونا رو جاتی ہے

سب کی میرے حق میں گواہیمیرے خلاف چلی جاتی ہے

سب کے ساتھ نہیں روتا میںذمہ داری بڑھ جاتی ہے

مرتی ہیں گونگی آوازیںاندھی آنکھ بھی دھندلاتی ہے

دھوپ مرے گھر کی وحشت سےڈر جاتی ہے مر جاتی ہے

— شارق کیفی