5 اشعار

کچھ تو احباب ذرا دل کے بڑے ہیں میرے

kuchh to ahbab zara dil ke baDe hain mere

کچھ تو احباب ذرا دل کے بڑے ہیں میرےکچھ منانے کے طریقے بھی نئے ہیں میرے

سچ تو یہ ہے کہ نشانے پہ کوئی تھا ہی نہیںیوں بھی کچھ تیر نشانے پہ لگے ہیں میرے

کوئی منزل ہو انہیں خرچ نہیں کرتا میںیہ قدم لوٹ کے آنے کے لئے ہیں میرے

یہ جو آئے ہیں مدد کو مری انجان ہیں سبساتھ والے تو کہیں دور کھڑے ہیں میرے

عشق میں جان نہ دینے کا ہے افسوس مگرکام کچھ ہیں جو شہادت سے بڑے ہیں میرے

— شارق کیفی