6 اشعار

اس دھوکے نے توڑ دیا ہے اتنا مجھ کو

us dhoke ne toD diya hai itna mujhko

اس دھوکے نے توڑ دیا ہے اتنا مجھ کواب کچھ بھی سمجھا لیتی ہے دنیا مجھ کو

یاروں نے کیا خوب جنوں کا توڑ نکالاسب نے مل کر چھوڑ دیا سمجھانا مجھ کو

اس نے مجرم ٹھہرایا تو مان گیا میںویسے کوئی یاد نہیں تھا وعدہ مجھ کو

اوروں کی جاں میں خطرے میں ڈال نہ پایہکشتی کشتی ڈھونڈ رہا تھا دریا مجھ کو

اس صورت میں یار بھلا کیا کر سکتے تھےتوڑ رہا تھا اندر کا سناٹا مجھ کو

مجھ کو پڑھنا مجھے سمجھنا کیا لازم ہےجھوم جھوم کے بند کرو دہرانا مجھ کو

— شارق کیفی