5 اشعار

لگی جو دیر مجھے آپ کو منانے میں

phir kahin zikr kiya hai us ka

لگی جو دیر مجھے آپ کو منانے میںجھجھک رہا تھا میں اپنے خلاف جانے میں

تمام عمر یہی سوچ کر رہا خاموشلگا ہے کوئی مرا صبر آزمانے میں

نہیں ہے یوں تو کسی کام کا دل ناکاملگا ہوا ہوں اسے کام کا بنانے میں

وہاں کھلے میں نہ اٹھتا تھا آسمان کا بوجھیہاں سرنگ بناتا ہوں قید خانے میں

جو سچ کہیں تو ہمیں کوئی غم نہیں لیکنعجیب سکھ ہے اداسی کے گیت گانے میں

— شارق کیفی