5 اشعار

میں پہنچا تو یار نہ پہنچا

main pohncha to yar na pohncha

میں پہنچا تو یار نہ پہنچاچھٹی تک اتوار نہ پہنچا

بیچ بھنور میں ڈوب گیا میںآدھا پونا پار نہ پہنچا

ہاں کہنے پر خود کو منایاجب اس تک انکار نہ پہنچا

سب پہلے سے طے تھا شایدکوئی کہیں بے کار نہ پہنچا

شرمندہ ہوں جان بچا کرگردن تک کیوں بار نہ پہنچا

— شارق کیفی