9 اشعار

مر کے وہ زندوں میں شامل ہو گیا

mar ke wo zindon mein shamil ho gaya

مر کے وہ زندوں میں شامل ہو گیامدتوں سے سارا گھر بے چین تھا

رات دن کی وہ اذیتشام ہوتی تھی تو ڈر جاتے تھے ہم

ایسی چیخیں جو دلوں کو بھید دیںہر گھڑی پیشاب اور ناپاک جسم

گیلا بستررات کے پچھلے پہر میں

کپڑے پہنانا اس ایسے جسم کوجو بیٹھ بھی سکتا نہ ہو

اور اس پر جرم کا احساساس رشتہ سے

جو ہم سب کا تھا اس جسم سےآج جب خالی ہے وہ کونا تو سچ مچ لگ رہا ہے

مر کے وہ زندوں میں شامل ہو گیااور اس کی موت سے

ہم سب بھی شاید

— شارق کیفی