13 اشعار

مرنے والے سے جلن

marne wale se jalan

ذرا سا غم نہیں چہرے پہ ان کےمیاں سر پر کوئی رومال ہی رکھ لو

انہیں تو موت آنا ہی نہیں ہےوہی طعنے

وہی فقرےابھی تک میرا پیچھا کر رہے ہیں ہر جنازے میں

میں اپنی چال کی رفتار تھوڑی اور کم کر کےنکل آتا ہوں باہر بھیڑ سے

اور رک کے اک دکان پر سگریٹ جلاتا ہوںجنازہ دور ہوتا جا رہا ہے

یہ سب کیا ہے؟اداکاری نہیں آتی مجھے تو کیا کروں میں

اور سچی بات کہہ دوں تو مجھے پاگل سمجھ لے گی یہ دنیاہاں یہ سچ ہے

مجھے رتی برابر غم نہیں ہوتا کسی کی موت کااور یہ بھی سن لو

مری جس مسکراہٹ پر یہاں ناراض ہیں سبسبب اس کا جلن ہے

جو میں محسوس کرتا ہوں کسی بھی مرنے والے سےکڑھن ہوتی ہے مجھ کو سوچ کر

کہ میں جس امتحاں کے خوف سے بے حال اور بے چپن پھرتا ہوںوہ یہ صاحب

جو کاندھوں پر ہیںان کا ہو چکا

اور میرا باقی ہے

— شارق کیفی