8 اشعار

موت کی امداد

maut ki imdad

کتنے اچھے ہیں میرے کالونی والےگھر میں میرے موت نہ ہوتی تو میں تو انجان ہی رہتا

ان چہروں سےان لوگوں سے

فجر تلک جو ساتھ رہے میرے اس شب میںدفنانے کے بعد کے اس پہلے لقمے تک

کتنے گھروں کے چائے کے برتنپڑے رہے تیجے کے دن تک میرے گھر میں

مجھے نہیں معلوم کفن کس کے ذمے تھاکون سا بچہ بیری کی ٹہنی لایا تھا

سب اپنے تھےسب میرے تھے

سب اچھے تھےاندھا تھا میں آج تلک پہچان نہ پایا

ان اپنوں کو

— شارق کیفی