13 اشعار

تماشائی نہ مل پائے

tamashai na mil pae

توجہوہ یہاں کس کو ملی ہے

خدا نے کیا کسر چھوڑی تھی کوئیتوجہ کھینچنے کی

مگر کیا ہاتھ آیاتماشا گاہ تک لائے گئے تھے مفت میں ہم

ٹکٹ بھی واپسی کا جیب میں اس نے ہماری رکھ دیا تھاکہ ہم بے فکر ہو کر کھیل کا اس کے مزہ لیں

فقط تعریف کرنے کے عوضتالی بجانے کے عوض جنت

بڑا انعام تھاتماشے روشنیوں کے بھی سب دلچسپ تھے

مگر پھر بھی ہمیں ایسا نہیں لگتاتماشہ دھیان سے دیکھا کسی نے

وہ جس اک واہ کی خاطریہ سارا انتظام اس نے کیا تھا

دلوں سے وہ کبھی نکلی کسی کےاگر یہ سب خدا کے ساتھ ہو سکتا ہے

تو ہم کیاہمارے چھوٹے موٹے کھیل کیا

بازی گری کیاسبب بنتا نہیں شکوے کا کوئی

بلا مطلب تماشہ دیکھنے والوں سے اپنے ہم خفا ہیںخدا کو جب یہاں اچھے تماشائی نہ مل پائے

تو ہم کیا ہیں

— شارق کیفی