12 اشعار

محبت کی انتہا پر

mohabbat ki intiha par

پاپاتم مر جاؤ نہ پاپا

میں تم سے نفرت کرتا ہوںکش تم لیتے ہو کھانسی مجھ کو آتی ہے

دل کے دورے تمہیں نہیںمجھ کو پڑتے ہیں

آخر کب تکرات میں اٹھ کر

لائٹ جلا کردیکھوں گا میں سانس تمہاری

کب تک میری ٹیچرمجھ کو ٹوکے گی

گم صم رہنے پرکیسے بتلاؤں

میں کتنا ڈر جاتا ہوںجب میری رکشا مڑتی ہے

گھر والے رستے پرآج بھی کم بے چین نہیں میں

موڑ وہ بس آنے والا ہےچین پڑ گیا

آج بھی میرے گھر کے آگے بھیڑ نہیں ہےیعنی

آج بھی شاید سب کچھ ٹھیک ہے گھر میںیعنی تم زندہ ہو پاپا

— شارق کیفی