11 اشعار

نظر بھر دیکھ لوں بس

nazar bhar dekh lun bas

پتہ ہےتمہارے ساتھ

میرے ساتھکتنے اتفاق اک ساتھ ہوئے ہوں گے

تو یہ صورت بنی ہےکہ ہم اک ساتھ سانسیں لے رہے ہیں

کہ ہم اک ساتھ ہیں اس وقت دنیا میںیہی سب سے بڑا رشتہ ہے شاید مجھ میں تم میں

میں ایسا جانتا ہوںکہ اس رشتے سے ہر انساں جو دنیا میں ہے رشتے دار ہے میرا

مگر ان رشتے داروں کو نہیں معلوم میرےمیں کیا لگتا ہوں ان کا

سو میں بھیتعارف اس حوالے سے کبھی ان کو نہیں دیتا

مری خواہش بس اتنی ہے کہ میں جانے سے پہلے اس جہاں سےزیادہ سے زیادہ اپنے لوگوں کو نظر بھر دیکھ لوں بس

تو چھو کر دیکھ لوں بسسمجھ میں آ گیا اب

سحر سے شام تک میں کس لیے سڑکوں پہ پھرتا ہوںمیں کھڑکی سے لگی اک سیٹ کی خاطر سفر میں

کسی بچے کی صورت کیوں جھگڑتا ہوں

— شارق کیفی