6 اشعار

سفر حالانکہ تیرے ساتھ اچھا چل رہا ہے

safar haalanki tere sath achchha chal raha hai

سفر حالانکہ تیرے ساتھ اچھا چل رہا ہےبرابر سے مگر اک اور رستہ چل رہا ہے

زبانی کھیل بن کر رہ گیا ہے عشق اپناجہاں وعدے کے بدلے صرف وعدہ چل رہا ہے

کہاں تک بزم میں بیٹھا رہوں نظریں جھکائےجدھر دیکھو ادھر کوئی اشارہ چل رہا ہے

ہمیں یہ بیچ جھگڑے میں اچانک یاد آیاکہ اس کے ساتھ تو جھگڑا ہمارا چل رہا ہے

کبھی بستر سے اٹھے بھی تو یہ چیخیں سنی ہیںکھلونا چل گیا دیکھو کھلونا چل رہا ہے

ہر اک محفل میں ہوتا تھا نیا انداز اپنامگر اب مدتوں سے ایک چہرہ چل رہا ہے

— شارق کیفی