7 اشعار

تن سے جب تک سانس کا رشتہ رہے گا

tan se jab tak sans ka rishta rahega

تن سے جب تک سانس کا رشتہ رہے گامیرے اشکوں میں ترا حصہ رہے گا

دور تک کوئی شناسا ہو نہیں ہوبھیڑ میں اچھا مگر لگتا رہے گا

ایسے چھٹکارا نہیں دینا ہے اس کومیں اگر مر جاؤں تو کیسا رہے گا

طے تو ہے الگاؤ بس یہ سوچنا ہےکون سی رت میں یہ دکھ اچھا رہے گا

خود سے میری صلح ممکن ہی نہیں ہےجب تلک اس گھر میں آئینہ رہے گا

یوں تو اب بستر ہے اور بیمار لیکنسانس لینے میں مزہ آتا رہے گا

میں نے کتنے دن کسی کو یاد رکھاوہ بھی کیوں میرے لئے روتا رہے گا

— شارق کیفی