7 اشعار

نہیں میں حوصلہ تو کر رہا تھا

nahin main hausla to kar raha tha

نہیں میں حوصلہ تو کر رہا تھاذرا تیرے سکوں سے ڈر رہا تھا

اچانک جھینپ کر ہنسنے لگا میںبہت رونے کی کوشش کر رہا تھا

بھنور میں پھر ہمیں کچھ مشغلے تھےوہ بیچارہ تو ساحل پر رہا تھا

لرزتے کانپتے ہاتھوں سے بوڑھاچلم میں پھر کوئی دکھ بھر رہا تھا

اچانک لو اٹھی اور جل گیا میںبجھی کرنوں کو یکجا کر رہا تھا

گلہ کیا تھا اگر سب ساتھ ہوتےوہ بس تنہا سفر سے ڈر رہا تھا

غلط تھا روکنا اشکوں کو یوں بھیکہ بنیادوں میں پانی مر رہا تھا

— شارق کیفی